فلاح و بہبود
قسم کلام: اسم کیفیت
معنی
١ - فائدہ اور بھلائی۔ "اس علاقے کے باشندوں کے لیے حیرت انگیز فلاح و بہبود کی توقع کی جارہی تھی۔" ( ١٩٨٤ء، سندھ اور نگاہ قدر شناس، ١٣٢ )
اشتقاق
عربی زبان سے مشتق اسم 'فلاح' کو حرف عطف 'و' کے ذریعے فارسی سے ماخوذ اسم 'بَہْبُود' کے ساتھ ملانے سے مرکبِ عطفی بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٩٢٣ء کو "سیرۃ النبیۖ" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - فائدہ اور بھلائی۔ "اس علاقے کے باشندوں کے لیے حیرت انگیز فلاح و بہبود کی توقع کی جارہی تھی۔" ( ١٩٨٤ء، سندھ اور نگاہ قدر شناس، ١٣٢ )
جنس: مؤنث